تحریر : خالدپروانہ
جس طرح نام سے ظاہر ہے سرکی خیل پٹھانوں کی ایک نہایت سخت اور جنگجو قوم تھی۔ کہتے ہیں کہ کسی نے سرکی خیل کو آگ کے ساتھ بند کیا تو آگ چیخنے لگی 😁۔
سرکی خیل قوم دو جگہوں پہ آباد ہے ایک سب ڈویژن وزیر بنوں(ڈومیل) میں ۔یہاں پہ ان کی بانڈریاں ہاتھی خیل اور سپرکہ وزیران کے ساتھ لگی ہوئی ہے ۔۔ سب ڈیژن وزیر بنوں میں جو سرکی خیل قوم آباد ہے ان میں بڑی قومیں توّولہ خیل اور بوّولہ خیل ہیں ۔۔ توّولہ خیل قوم گلشی خیل، کاکا خیل، شومی خیل اور دلپوری پر مشتمل ہیں جبکہ بوّولہ خیل قوم بلوچ خیل، خون خیل اور ودان کلہ پر مشتمل ہیں ۔۔
جبکہ دوسری جگہہ وانا وزیرستان، کژہ پنگہ اعظم ورسک میں آباد ہے ۔۔ وانا میں یہ قوم نازر وول(گلشی خیل)، شیخن وول(کاکاخیل)، دلپوری اور تورخیل قوم پر مشتمل ہیں ۔۔ سرکی خیل قوم بنیادی طور پر افغانستان میں آباد ہیں اور ہم وہاں سے ہو کے آئے ہیں ۔۔
جو سرکی خیل سب ڈویژن وزیر بنوں میں آباد ہیں وانا وزیرستان والے ان کے ابا و اجداد ہیں
فقیر ایپی اور انگریزوں کی جنگ میں زیادہ تعداد میں سرکی خیل شھید ہوگئے تھے ۔ان میں کچھ خاندان آورکزئی ماموزئی آکر آباد ہوگئے ۔جو بعد میں زمینی تنازعات کے وجہ سے ماموزئی کے کچھ قوموں نے انکا قتل عام کیا ۔
ان میں سے ایک شخص کو کسی نے بچا کر کرم ایجنسی علیشرزئی لیکر آئے اور یہاں اس نے شادی کی اور سِٹل ہوگیے۔اللہ نے انکی نسل کو بڑھایا جو کہ بعد میں کچھ کوہاٹ کے مختلف مقامات پر آباد ہوگئے ۔الحمد انکی نئ نسل مکمل تعلیم یافتہ ہے ۔جن میں سے ایک میں بھی ہوں 😉 خون کبھی کبھی جوش مارتا ہے لیکن ڈرنے کی کوئی بات نہیں 😆
ازقلم خالد سرکی خیل 😎
