نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سرکی خیل تاریخ sarki khail history

تحریر : خالدپروانہ جس طرح نام سے ظاہر ہے سرکی خیل پٹھانوں کی ایک نہایت سخت اور جنگجو قوم تھی۔ کہتے ہیں کہ کسی نے سرکی خیل کو آگ کے ساتھ بند کیا تو آگ چیخنے لگی 😁۔ سرکی خیل قوم دو جگہوں پہ آباد ہے ایک سب ڈویژن وزیر بنوں(ڈومیل) میں ۔یہاں پہ ان کی بانڈریاں ہاتھی خیل اور سپرکہ وزیران کے ساتھ لگی ہوئی ہے ۔۔ سب ڈیژن وزیر بنوں میں جو سرکی خیل قوم آباد ہے ان میں بڑی قومیں توّولہ خیل اور بوّولہ خیل ہیں ۔۔ توّولہ خیل قوم  گلشی خیل، کاکا خیل، شومی خیل اور دلپوری پر مشتمل ہیں جبکہ بوّولہ خیل قوم بلوچ خیل، خون خیل اور ودان کلہ پر مشتمل ہیں ۔۔  جبکہ دوسری جگہہ وانا وزیرستان، کژہ پنگہ اعظم ورسک میں آباد ہے ۔۔ وانا میں یہ قوم نازر وول(گلشی خیل)، شیخن وول(کاکاخیل)، دلپوری اور تورخیل قوم پر مشتمل ہیں ۔۔ سرکی خیل قوم بنیادی طور پر افغانستان میں آباد ہیں اور ہم وہاں سے ہو کے آئے ہیں ۔۔ جو سرکی خیل سب ڈویژن وزیر بنوں میں آباد ہیں وانا وزیرستان والے ان کے ابا و اجداد ہیں  فقیر ایپی اور انگریزوں کی جنگ میں زیادہ تعداد میں سرکی خیل شھید ہوگئے تھے ۔ان میں کچھ خاندان آورکزئی ماموزئی آکر آباد ہوگئ...
حالیہ پوسٹس

قبائلی متاثرین

 قبائلی متاثرین اور یوکرائنی زرا ان دونوں تصاویر کو غور سے دیکھیں۔ ایک طرف یوکرائینی متاثرین ہیں اُنکی حکومت انکا کتنا خیال رکھتی ہے۔ اپنی عوام کو آرام دہ بیڈز،صاف ستھرا خوراکی اشیاء،کولڈرنکس، فاسٹ فوڈز حتی کہ بچوں کیلئے کھیلونے بھی رکھے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ہمارے قبائلی متاثرین ہیں ۔ جو جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی آپریشن کی وجہ سے متاثر ہوئے جہاں آرمی بھی اپنی تھی۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپریشن سے پہلے متاثرین کیلئے پلان بناتے ان کیلئے انتظامات کرتے ۔  چلو حکومت تو لوٹیروں کےہاتھ میں تھی۔ یہاں تو پاکستانی عوام بھی قبائلیوں کو مصیبت میں دیکھ کر  گاڑیوں والوں نے کرائے بڑھا دیئے پراپرٹی والوں نے زمینیں مہنگی کردی۔ باقی لوگوں نے گھروں کی رینٹ بڑھا دیئے ۔جو گاڑی 500 روپے لیتی تھی۔ انھوں نے متاثرین سے 20 25 ہزار لیے ۔ جو رینٹ کے گھر 1500 میں ملتے تھے۔ انھوں نے 15000 تک رینٹ بڑھا دیا۔ اور پھر کہتے ہیں ھم عاشق رسول ہیں۔ کیا نبی کے عاشقوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو اس طرح لوٹا تھا؟  وہ ملک جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔وہ ملک جس کےلیے سینکڑوں...

میری کہانی

  بچپن میں جب میرے کزنز میرے دوست کبڈی، ریمبو، گلی ڈنڈا، کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور باہر خوب دوڑتے شور مچاتے اینجوائے کرتے تھے ٹھیک اسی وقت میں اپنے بیگ سے سلیٹ لیکر چھت کے کسی کھونے میں بیٹھ کر بطخیں بنایا کرتا تھا ۔ یا چھت سے پتنگ اڑایا کرتا تھا ۔شروع سے میں لوگوں کی باتیں سنتا آیا ہوں کہ میں گھر سے باہر نکلتا نہیں مسجد نہیں جاتا وغیرہ وغیرہ ۔میں بازار جاتا تو دو دن تک عجیب سا فیل کرتا تھا حالانکہ میں بائیک پر ہوتا پھر بھی تھکاوٹ محسوس کرتا تھا ۔پھر میں نےایک دن ایک کتاب پڑھی تو مجھے پتا چلا کہ میں ایک introvert ہوں ! نفسیات کے حوالے سے انسانوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اُن میں تین بنیادی اقسام یہ ہیں Introvert Extrovert Ambivert انٹروورٹ لوگوں کو معاشرے میں بڑی حد تک سمجھا ہی نہیں جاتا ۔ اور اگر سمجھا جاتا ہے تو غلط ۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ لوگ سارا دن کمروں میں چھپ کر بیٹھے رہتے ہیں ۔ کسی سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے ۔ ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ۔ دوسرے لوگوں۔ کی طرح ہمیں بھی سماجی رابطے بنانا اچھا لگتا ہے ۔ لیکن کچھ وقت کے بعد ، ہماری سوشل ...

حقیقی جنگل

  جس ملک میں ان کے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی کوئی ضمانت نہ ہو حقیقی جنگل کہلاتا ہے۔اور جنگل میں ہر چرند، پرند کو اپنی ہی طاقت پر زندہ رہنا پڑتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تووہ چرندوپرند فنا ہو جائیں گےاور جنگل ان کی بقاء کا ذمہ دار نہیں ٹھہرتا۔تاہم جانوروں میں بھی بعض باتیں بہت اعلیٰ اور نمایاں ہوتی ہے۔ ایک جانور دوسرے جانور کو کسی لالچ بغض یا ہوس کیلئے نہیں مارتابلکہ وہ اسے اپنی پیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مارتا ہےاور جب اس کی پیٹ کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے ۔تووہ بچا کھچا دوسرے جانوروں کیلئے چھوڑ جاتا ہے ۔لیکن انسان کی اس بھونڈی اور ذلیل دنیا میں حالات افسوسناک حد تک قابل رحم ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کو حسد لالچ اور ہوس کیلئے قتل کرتاہے۔کیونکہ وہ لالچ اور ہوس کے ہاتھوں ایک بےبس آلہ بن کر رہ جاتاہے۔ ایک جانور دوسرے جانور کاشکار صرف پیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کرتا ہے۔اور جب اسکی بھوک مٹ جاتی ہے۔تو وہ باقی مانده شکار کردہ جانور کا گوشت کمزور جانوروں کو چھوڑ جاتا ہے۔اس سے زیادہ دریا دلی اور سخاوت اور کیا ہوسکتی ہے ۔بدقسمتی سے انسانوں کی دنیا میں حالات افسوسناک حدتک مختلف ہے۔ہر غریب مل...

علماء کرام

پاکستان میں جس طرح ہر سال مختلف یونیورسٹیوں سے ہزاروں طلبہ و طالبات ڈگریاں لیکر فارغ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح   ہر سال ہزاروں علماء کرام مختلف مدرسوں سے فارغ ہوکر اکثر مدرسوں اور مسجدوں میں امامت ،درس وتدریس  کا فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔   ایک ڈگری ہولڈر ڈگری سے لیکر کسی عہدے پر فائز ہونے تک اسکی مختلف جانچ پڑتال ہوتی ہے اگر کوئی سفارش یا کسی غیر قانونی طریقے سے ڈگری یا عہدہ حاصل کرلیتا ہے تو وہ ادارے کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی بیڑہ غرق کردیتا ھے ۔۔ اب آتے ہیں مدارس کی طرف  کیا مدرسوں میں بھی ایک طالب کی جانچ پڑتال ھونے کے بعد دستار باندھی جاتی ہے؟    جہاں تک مجھے علم ہے وفاق کے علاوہ مدرسوں میں فیل پاس کا کوئی نظام ہی نہیں،، میں کئ دوستوں کو جانتا ہوں جو میرے ساتھ پڑھتے تھے بلکہ پڑھنے آتے ہی نہیں تھے سارا دن بازاروں نیٹ کیفوں میں وقت گزاری کرتےتھے ۔ اور یوں وقت گزرتا گیا خیر میں نے بیچ میں یوٹرن لے لی مدرسے کو خیر باد کہہ کریونیورسٹی اور اکیڈمیز جوائن کرلی اگرچہ میں محنتی تھا لیکن  میں آزاد پسند تھا  مجھے کبھی کبھار ایسا لگتا تھا کہ میرے ہات...

مدرز ڈے اور ہماری منافقت

آج پوری دنیا میں ماں دن منائی جا رہی ہے ۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جسکی تعریف اللہ اور اسکے رسولؐ نے کی ہے ۔ خدا نےہمیں اپنا پیار سمجھانے کیلئے ایک ماں کی مثال پیش کی ہے۔  اورہماری منافقت چیک کریں جی۔ھم میں سے جن کی مائیں حیات ہیں کبھی زندگی میں انکی بات نہیں مانی،  اور جن کی فوت ہو چکی ہیں وہ یہی رونا رو رہے ہیں چاہے عید ہو یا کوئی اور خوشی کے مواقع  " کاش آج میری ماں زندہ ہوتی تو میرے لیے اپنے ہاتھوں سے بریانی پکاتی کپڑے پریس کر لاتی، کوئی کہتا ہے میں رات کو جب لیٹ آتا تھا تو ماں گیٹ پہ کھڑی میرا انتظار کررہی ہوتی اور آج حال یہ ہے کہ کوئی گیٹ ہی نہیں کھولتا میرے لیے ۔۔۔ابے تمھیں ماں چاہیئے یا نوکرانی؟؟  اس لیے ماں یاد آگئ کہ آج کسی نے تیری پسند کا کھانا نہیں بنایا ؟گیٹ نہیں کھولا ؟تیرا غصہ نہیں برداشت کیا؟   کبھی ایک بندے سے یہ نہیں سنا کہ کاش میری ماں زندہ ہوتی تو میں ان کی خدمت کرتا ان سے دعائیں لیتا ۔  ایک نے عامرخان کی ایموشنل ویڈیو شیئر کی تھی جس نے مدرز ڈے پہ لوگوں سے سوالات پوچھے تھے،، ان میں ایک سوال یہ پوچھاگیاتھا کہ وہ کونسا مزدور ہے جو سارا سال...