پاکستان میں جس طرح ہر سال مختلف یونیورسٹیوں سے ہزاروں طلبہ و طالبات ڈگریاں لیکر فارغ ہوتے ہیں ۔
اسی طرح
ہر سال ہزاروں علماء کرام مختلف مدرسوں سے فارغ ہوکر اکثر مدرسوں اور مسجدوں میں امامت ،درس وتدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔
ایک ڈگری ہولڈر ڈگری سے لیکر کسی عہدے پر فائز ہونے تک اسکی مختلف جانچ پڑتال ہوتی ہے اگر کوئی سفارش یا کسی غیر قانونی طریقے سے ڈگری یا عہدہ حاصل کرلیتا ہے تو وہ ادارے کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی بیڑہ غرق کردیتا ھے ۔۔
اب آتے ہیں مدارس کی طرف
کیا مدرسوں میں بھی ایک طالب کی جانچ پڑتال ھونے کے بعد دستار باندھی جاتی ہے؟
جہاں تک مجھے علم ہے وفاق کے علاوہ مدرسوں میں فیل پاس کا کوئی نظام ہی نہیں،، میں کئ دوستوں کو جانتا ہوں جو میرے ساتھ پڑھتے تھے بلکہ پڑھنے آتے ہی نہیں تھے سارا دن بازاروں نیٹ کیفوں میں وقت گزاری کرتےتھے ۔ اور یوں وقت گزرتا گیا خیر میں نے بیچ میں یوٹرن لے لی مدرسے کو خیر باد کہہ کریونیورسٹی اور اکیڈمیز جوائن کرلی اگرچہ میں محنتی تھا لیکن میں آزاد پسند تھا مجھے کبھی کبھار ایسا لگتا تھا کہ میرے ہاتھوں بہت سے لوگ گمراہ ہونے ایک دن 😆 میں مولوی نہیں بن سکا جومجھے افسوس رہے گا لیکن یہ میری زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ تھا ۔
اور میرے وہ رامی دوست جو بازاروں میں گھومتے تھے آج مولوی بنے مسجدوں میں لوگوں کو دین سیکھا رہے ہیں ۔۔اورمیں بہت اچھی طرح سے واقف ہوں کہ وہ کتنا جانتے ہیں دین کے بارے میں ۔
میری یہی ایک خواہش ہے کہ حکومت مدارس کو اپنے کنٹرول میں لیکر انکو سند قابلیت کے بنیاد پر دے اور مسجدوں میں بھی اسی طرح بھرتی کروائیں ۔ کیونکہ دین اسلام کوئی مذاق نہیں یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، جو اس قابل نہیں انکو باعزت گھر بھیج دیں۔
نوٹ : یہ میری ذاتی رائے ہے جو غلط /صحیح ہوسکتی ہے 🙏
