آج پوری دنیا میں ماں دن منائی جا رہی ہے ۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جسکی تعریف اللہ اور اسکے رسولؐ نے کی ہے ۔
خدا نےہمیں اپنا پیار سمجھانے کیلئے ایک ماں کی مثال پیش کی ہے۔
اورہماری منافقت چیک کریں جی۔ھم میں سے جن کی مائیں حیات ہیں کبھی زندگی میں انکی بات نہیں مانی،
اور جن کی فوت ہو چکی ہیں وہ یہی رونا رو رہے ہیں چاہے عید ہو یا کوئی اور خوشی کے مواقع " کاش آج میری ماں زندہ ہوتی تو میرے لیے اپنے ہاتھوں سے بریانی پکاتی کپڑے پریس کر لاتی، کوئی کہتا ہے میں رات کو جب لیٹ آتا تھا تو ماں گیٹ پہ کھڑی میرا انتظار کررہی ہوتی اور آج حال یہ ہے کہ کوئی گیٹ ہی نہیں کھولتا میرے لیے ۔۔۔ابے تمھیں ماں چاہیئے یا نوکرانی؟؟
اس لیے ماں یاد آگئ کہ آج کسی نے تیری پسند کا کھانا نہیں بنایا ؟گیٹ نہیں کھولا ؟تیرا غصہ نہیں برداشت کیا؟
کبھی ایک بندے سے یہ نہیں سنا کہ کاش میری ماں زندہ ہوتی تو میں ان کی خدمت کرتا ان سے دعائیں لیتا ۔
ایک نے عامرخان کی ایموشنل ویڈیو شیئر کی تھی جس نے مدرز ڈے پہ لوگوں سے سوالات پوچھے تھے،، ان میں ایک سوال یہ پوچھاگیاتھا کہ وہ کونسا مزدور ہے جو سارا سال دن رات کام کرتا رہتا ہے تہواروں پہ بھی آرام نہیں کرتااور تنخواہ ایک روپیہ بھی نہیں لیتا ؟ ''وہ ہے ماں ''
لوگ اس مزدور کا نام سنتے ہی ایموشنل ہوگئے ۔کیا ماں کے پیارکو اس طرح ڈسرکرائب کرنا چاہیئے؟
وہ ماں جو دن رات سارا سال تمہاری خدمت کرتی رہے اس کےلیے سال میں ایک پوسٹ ڈال کر کیا سمجھتے ہو اسکے احسان کا بدلہ چکا لیا تم نے؟
اساتذہ سکولوں مدرسوں میں، مولوی مسجدوں میں ماڈلز اور بگڑی اولاد ٹک ٹاک پہ چیخ چیخ کر لوگوں کو ماں کے پیار کا درس دیتے ہیں اور خودگھر میں اسکی ماں اس سے ناراض ہوتی ہے۔
کم از کم میں یہ منافقت نہیں کرونگا کیونکہ میں انتہا درجے کا نافرمان بندہ ہوں ۔
بس دعا ہی کرسکتے ہیں اللہ ہم سب کو ماں سے حقیقی پیار اور خدمت کرنے والا بنا دے آمین
ازقلم خود
خالد پروانہ
