نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سرکی خیل تاریخ sarki khail history

تحریر : خالدپروانہ جس طرح نام سے ظاہر ہے سرکی خیل پٹھانوں کی ایک نہایت سخت اور جنگجو قوم تھی۔ کہتے ہیں کہ کسی نے سرکی خیل کو آگ کے ساتھ بند کیا تو آگ چیخنے لگی 😁۔ سرکی خیل قوم دو جگہوں پہ آباد ہے ایک سب ڈویژن وزیر بنوں(ڈومیل) میں ۔یہاں پہ ان کی بانڈریاں ہاتھی خیل اور سپرکہ وزیران کے ساتھ لگی ہوئی ہے ۔۔ سب ڈیژن وزیر بنوں میں جو سرکی خیل قوم آباد ہے ان میں بڑی قومیں توّولہ خیل اور بوّولہ خیل ہیں ۔۔ توّولہ خیل قوم  گلشی خیل، کاکا خیل، شومی خیل اور دلپوری پر مشتمل ہیں جبکہ بوّولہ خیل قوم بلوچ خیل، خون خیل اور ودان کلہ پر مشتمل ہیں ۔۔  جبکہ دوسری جگہہ وانا وزیرستان، کژہ پنگہ اعظم ورسک میں آباد ہے ۔۔ وانا میں یہ قوم نازر وول(گلشی خیل)، شیخن وول(کاکاخیل)، دلپوری اور تورخیل قوم پر مشتمل ہیں ۔۔ سرکی خیل قوم بنیادی طور پر افغانستان میں آباد ہیں اور ہم وہاں سے ہو کے آئے ہیں ۔۔ جو سرکی خیل سب ڈویژن وزیر بنوں میں آباد ہیں وانا وزیرستان والے ان کے ابا و اجداد ہیں  فقیر ایپی اور انگریزوں کی جنگ میں زیادہ تعداد میں سرکی خیل شھید ہوگئے تھے ۔ان میں کچھ خاندان آورکزئی ماموزئی آکر آباد ہوگئ...

مدرز ڈے اور ہماری منافقت



آج پوری دنیا میں ماں دن منائی جا رہی ہے ۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جسکی تعریف اللہ اور اسکے رسولؐ نے کی ہے ۔

خدا نےہمیں اپنا پیار سمجھانے کیلئے ایک ماں کی مثال پیش کی ہے۔ 

اورہماری منافقت چیک کریں جی۔ھم میں سے جن کی مائیں حیات ہیں کبھی زندگی میں انکی بات نہیں مانی، 

اور جن کی فوت ہو چکی ہیں وہ یہی رونا رو رہے ہیں چاہے عید ہو یا کوئی اور خوشی کے مواقع  " کاش آج میری ماں زندہ ہوتی تو میرے لیے اپنے ہاتھوں سے بریانی پکاتی کپڑے پریس کر لاتی، کوئی کہتا ہے میں رات کو جب لیٹ آتا تھا تو ماں گیٹ پہ کھڑی میرا انتظار کررہی ہوتی اور آج حال یہ ہے کہ کوئی گیٹ ہی نہیں کھولتا میرے لیے ۔۔۔ابے تمھیں ماں چاہیئے یا نوکرانی؟؟ 

اس لیے ماں یاد آگئ کہ آج کسی نے تیری پسند کا کھانا نہیں بنایا ؟گیٹ نہیں کھولا ؟تیرا غصہ نہیں برداشت کیا؟  

کبھی ایک بندے سے یہ نہیں سنا کہ کاش میری ماں زندہ ہوتی تو میں ان کی خدمت کرتا ان سے دعائیں لیتا ۔ 

ایک نے عامرخان کی ایموشنل ویڈیو شیئر کی تھی جس نے مدرز ڈے پہ لوگوں سے سوالات پوچھے تھے،، ان میں ایک سوال یہ پوچھاگیاتھا کہ وہ کونسا مزدور ہے جو سارا سال دن رات کام کرتا رہتا ہے  تہواروں پہ بھی آرام نہیں کرتااور تنخواہ ایک روپیہ بھی نہیں لیتا ؟ ''وہ ہے ماں ''

لوگ اس مزدور کا نام سنتے ہی ایموشنل ہوگئے ۔کیا ماں کے پیارکو اس طرح ڈسرکرائب  کرنا چاہیئے؟

 وہ ماں جو دن رات سارا سال تمہاری خدمت کرتی رہے اس کےلیے سال میں ایک پوسٹ ڈال کر کیا سمجھتے ہو اسکے احسان کا بدلہ چکا لیا تم نے؟ 

 اساتذہ سکولوں مدرسوں میں، مولوی مسجدوں میں  ماڈلز اور بگڑی اولاد ٹک ٹاک پہ چیخ چیخ کر لوگوں کو ماں کے پیار کا درس دیتے ہیں اور خودگھر میں اسکی ماں اس سے ناراض ہوتی ہے۔ 

کم از کم میں یہ منافقت نہیں کرونگا کیونکہ میں انتہا درجے کا نافرمان بندہ ہوں ۔ 

بس دعا ہی کرسکتے ہیں اللہ ہم سب کو ماں سے حقیقی پیار اور خدمت کرنے والا بنا دے آمین 


ازقلم خود 

خالد پروانہ

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قبائلی متاثرین

 قبائلی متاثرین اور یوکرائنی زرا ان دونوں تصاویر کو غور سے دیکھیں۔ ایک طرف یوکرائینی متاثرین ہیں اُنکی حکومت انکا کتنا خیال رکھتی ہے۔ اپنی عوام کو آرام دہ بیڈز،صاف ستھرا خوراکی اشیاء،کولڈرنکس، فاسٹ فوڈز حتی کہ بچوں کیلئے کھیلونے بھی رکھے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ہمارے قبائلی متاثرین ہیں ۔ جو جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی آپریشن کی وجہ سے متاثر ہوئے جہاں آرمی بھی اپنی تھی۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپریشن سے پہلے متاثرین کیلئے پلان بناتے ان کیلئے انتظامات کرتے ۔  چلو حکومت تو لوٹیروں کےہاتھ میں تھی۔ یہاں تو پاکستانی عوام بھی قبائلیوں کو مصیبت میں دیکھ کر  گاڑیوں والوں نے کرائے بڑھا دیئے پراپرٹی والوں نے زمینیں مہنگی کردی۔ باقی لوگوں نے گھروں کی رینٹ بڑھا دیئے ۔جو گاڑی 500 روپے لیتی تھی۔ انھوں نے متاثرین سے 20 25 ہزار لیے ۔ جو رینٹ کے گھر 1500 میں ملتے تھے۔ انھوں نے 15000 تک رینٹ بڑھا دیا۔ اور پھر کہتے ہیں ھم عاشق رسول ہیں۔ کیا نبی کے عاشقوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو اس طرح لوٹا تھا؟  وہ ملک جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔وہ ملک جس کےلیے سینکڑوں...

سرکی خیل تاریخ sarki khail history

تحریر : خالدپروانہ جس طرح نام سے ظاہر ہے سرکی خیل پٹھانوں کی ایک نہایت سخت اور جنگجو قوم تھی۔ کہتے ہیں کہ کسی نے سرکی خیل کو آگ کے ساتھ بند کیا تو آگ چیخنے لگی 😁۔ سرکی خیل قوم دو جگہوں پہ آباد ہے ایک سب ڈویژن وزیر بنوں(ڈومیل) میں ۔یہاں پہ ان کی بانڈریاں ہاتھی خیل اور سپرکہ وزیران کے ساتھ لگی ہوئی ہے ۔۔ سب ڈیژن وزیر بنوں میں جو سرکی خیل قوم آباد ہے ان میں بڑی قومیں توّولہ خیل اور بوّولہ خیل ہیں ۔۔ توّولہ خیل قوم  گلشی خیل، کاکا خیل، شومی خیل اور دلپوری پر مشتمل ہیں جبکہ بوّولہ خیل قوم بلوچ خیل، خون خیل اور ودان کلہ پر مشتمل ہیں ۔۔  جبکہ دوسری جگہہ وانا وزیرستان، کژہ پنگہ اعظم ورسک میں آباد ہے ۔۔ وانا میں یہ قوم نازر وول(گلشی خیل)، شیخن وول(کاکاخیل)، دلپوری اور تورخیل قوم پر مشتمل ہیں ۔۔ سرکی خیل قوم بنیادی طور پر افغانستان میں آباد ہیں اور ہم وہاں سے ہو کے آئے ہیں ۔۔ جو سرکی خیل سب ڈویژن وزیر بنوں میں آباد ہیں وانا وزیرستان والے ان کے ابا و اجداد ہیں  فقیر ایپی اور انگریزوں کی جنگ میں زیادہ تعداد میں سرکی خیل شھید ہوگئے تھے ۔ان میں کچھ خاندان آورکزئی ماموزئی آکر آباد ہوگئ...

میری کہانی

  بچپن میں جب میرے کزنز میرے دوست کبڈی، ریمبو، گلی ڈنڈا، کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور باہر خوب دوڑتے شور مچاتے اینجوائے کرتے تھے ٹھیک اسی وقت میں اپنے بیگ سے سلیٹ لیکر چھت کے کسی کھونے میں بیٹھ کر بطخیں بنایا کرتا تھا ۔ یا چھت سے پتنگ اڑایا کرتا تھا ۔شروع سے میں لوگوں کی باتیں سنتا آیا ہوں کہ میں گھر سے باہر نکلتا نہیں مسجد نہیں جاتا وغیرہ وغیرہ ۔میں بازار جاتا تو دو دن تک عجیب سا فیل کرتا تھا حالانکہ میں بائیک پر ہوتا پھر بھی تھکاوٹ محسوس کرتا تھا ۔پھر میں نےایک دن ایک کتاب پڑھی تو مجھے پتا چلا کہ میں ایک introvert ہوں ! نفسیات کے حوالے سے انسانوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اُن میں تین بنیادی اقسام یہ ہیں Introvert Extrovert Ambivert انٹروورٹ لوگوں کو معاشرے میں بڑی حد تک سمجھا ہی نہیں جاتا ۔ اور اگر سمجھا جاتا ہے تو غلط ۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ لوگ سارا دن کمروں میں چھپ کر بیٹھے رہتے ہیں ۔ کسی سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے ۔ ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ۔ دوسرے لوگوں۔ کی طرح ہمیں بھی سماجی رابطے بنانا اچھا لگتا ہے ۔ لیکن کچھ وقت کے بعد ، ہماری سوشل ...