جس ملک میں ان کے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی کوئی ضمانت نہ ہو حقیقی جنگل کہلاتا ہے۔اور جنگل میں ہر چرند، پرند کو اپنی ہی طاقت پر زندہ رہنا پڑتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تووہ چرندوپرند فنا ہو جائیں گےاور جنگل ان کی بقاء کا ذمہ دار نہیں ٹھہرتا۔تاہم جانوروں میں بھی بعض باتیں بہت اعلیٰ اور نمایاں ہوتی ہے۔ ایک جانور دوسرے جانور کو کسی لالچ بغض یا ہوس کیلئے نہیں مارتابلکہ وہ اسے اپنی پیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مارتا ہےاور جب اس کی پیٹ کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے ۔تووہ بچا کھچا دوسرے جانوروں کیلئے چھوڑ جاتا ہے ۔لیکن انسان کی اس بھونڈی اور ذلیل دنیا میں حالات افسوسناک حد تک قابل رحم ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کو حسد لالچ اور ہوس کیلئے قتل کرتاہے۔کیونکہ وہ لالچ اور ہوس کے ہاتھوں ایک بےبس آلہ بن کر رہ جاتاہے۔ ایک جانور دوسرے جانور کاشکار صرف پیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کرتا ہے۔اور جب اسکی بھوک مٹ جاتی ہے۔تو وہ باقی مانده شکار کردہ جانور کا گوشت کمزور جانوروں کو چھوڑ جاتا ہے۔اس سے زیادہ دریا دلی اور سخاوت اور کیا ہوسکتی ہے ۔بدقسمتی سے انسانوں کی دنیا میں حالات افسوسناک حدتک مختلف ہے۔ہر غریب ملک میں انکے بعض شہریوں کے پاس خوراک کی صورت میں بے تحاشا پیسہ ہے ۔فرض کریں اگر یہ شہری بھی اسی طرح دریا دلی کا مظاہرہ کریں جو جنگل میں ایک جانور کرتا ہے۔تو یقیناً ان کا کوئی بھی ساتھی فاقوں سے ہلاک نہیں ہوگا ۔لیکن جانوروں کی برعکس یہ امیر شہری اس بات سے نفرت کرتے ہیں کہ وہ اپنی خوراک فاقہ زدہ ساتھیوں کے ساتھ بانٹ دیں۔ اسکے علاوہ فاقہ زدہ ساتھیوں سے اپنی خوراک بانٹناملک کو جنگل میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا کوئی خودار اور عزت دار شخص خود کو جانور کی سطح تک گرا سکتا ہے؟ ہر غریب ملک میں مالی لحاظ سے طاقتور شہری کمزور شہریوں پر فاقے کرا رہے ہیں ۔طاقتور اس لیے طاقتور ہوتے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں اور روپے پیسے کی طاقت سے بندوق کی طاقت ملتی ہے ۔روپے پیسے کی طاقت سے محرومی مطلب بندوق کی طاقت سے محرومی ہے ۔اور جب تک ہم ان لوگوں کو بندوق سے محروم نہیں کرپاتے ۔فاقے اسی طرح رقص کرتے جائیں گے۔اگر ہمیں اپنے غریب ملک کے فاقہ زدہ عوام کو کھلانا ہے تب ہمیں ملک کو بندوق کی طاقت سے آزاد کرانا ہو گا۔
لیکن اس سے بلاشبہ عدم استحکام پیدا ہو گا۔ بہرنوع اصلاح احوال کی ایک اور صورت موجود ہے۔کیوں نہ ایک ایسی بندوق ایجاد کی جائے ۔جو چلنے سے انکار کرتا ہو اور اگر اسے ان فاقہ زدہ عوام پرتان لی جائے جو سڑکوں گلیوں اور بازاروں میں روٹی کیلئے چیخ رہے ہیں ۔تو یقینا اس طرح کا بندوق ایک بڑا انقلاب برپا کردے گا اوربھوک اور افلاس ہمشہ ہمیشہ ملک بدر ہوجائے گی ۔خدا نے یہ دنیا تخلیق کی لیکن انسان اپنی غلط اعمال سے اسے جہنم بنا رہاہے۔ جب حیوانوں کو یہ معلوم ہوا کہ انسان ہی انسان پرفاقے کراتے ہیں ۔تو انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ انھیں انسان نہیں بنایا۔خدا نے یہ خوبصورت دنیا پیدا کی جبکہ انسان نے مصائب اور مشکلات پیدا کیں۔جب تک انسان اس دنیا میں ہے۔ان کے ساتھ مصائب اور مشکلات بھی رہیں گے۔ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں بچے مختلف ملکوں میں قابل علاج بیماریوں اور فاقوں سے دم توڑ جاتے ہیں ۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ ان ملکوں کے پاس وسائل کی کمی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر ایسے ملک کے پاس پیسے کی صورت میں بےپناہ وسائل موجود ہیں ۔لیکن یہ پیسہ حکمران اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں ۔اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کہ ان بچوں پر خرچ کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں بچتا اور وہ فاقوں اور بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔بچوں کی طرز اموت حکمرانوں کی عیاش طرز زندگی کا ایک تحفہ ہے ۔ہمارے اپنے ملک میں ہرسال غربت کی وجہ سینکڑوں افراد بھوک غربت تنگدستی فاقہ کشی اور خودکشی کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لیکن مسلسل اقتدار کی باریاں لینے والے حکمرانوں کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی نہ ہماری آئین میں کہی اسکا تذکرہ موجود ہے کہ اگر ایک بچہ بوڑھا یا جوان فاقے یا مہنگی ادوایات کی عدم دستیابی کی وجہ سے دم توڑ گیا تو ذمہ داروں کو بھوکے مگرمچھوں کے آگے پھینک دیا جائے گا۔لیکن ہمیں ان سب باتوں کیلئے حکمرانوں کو موردالزام نہیں ٹھہرانا چاہیئے دراصل یہ ظالم پیسہ ہی ہے جو اصل مجرم اور برای کی جڑ ہے ۔پیسہ اور ضمیر تو ایک دوسرے کے ابدی دوشمن ہے اور کوئی بھی شخص ضمیر کا گلا گھونٹ کر ہی پیسہ جمع کرسکتا ہے ۔
